urdu real life stories,urdu real story

سوشل میڈیا پہ دوستی کرنے والا اپنا ہی شوہر نکلا اک سچی سبق آموز کہانی

انسان زندگی میں کچھ ایسی غلطیاں کرتا ہے جس کی قیمت وہ اپنی زندگی دے کر بھی ادا نہیں کر پاتا اور ایسی غلطیاں انسان کی عمر بھر کا پچھتاوہ بن کر رہ جاتی ہیں وہ اس سچ سے بھاگنا چاہتا ہے لیکن بھاگ نہیں پاتا کیونکہ انسان جتنا بھی بھاگ لے جہاں تک بھاگ لے وہ کھبی خود سے نہیں بھاگ سکتا یہی زندگی کا سچ ہے ۔سر میرا نام عائشہ ہے اور میری کہانی بہت ہی سبق آموز ہے میری اک چھوٹی سی غلطی نے میری زندگی کا تختہ پلٹ دیا جہاں میں اک شاہانہ زندگی گزار رہی تھی اچانک میری زندگی کسی صحرا میں بھٹکے مسافسر جیسی ہو گئی جسے نا راستے کا پتہ ہوتا ہے نا منزل کا بس وہ جہاں سے چلتا ہے گھوم پھر کر وہاں ہی واپس آ جاتا ہے وہ اس بھول بھولیاں سے نکلنا چاہتا ہے پر نکل نہیں پاتا۔سر میں ایک بہت اونچے خاندان کی لڑکی ہوں گھر میں بہت آسائشیں دیکھیں نوکر چاکر گاڑیاں عام بات ہے میرے والد خاندانی رئیس ہیں دنیا میں جتنی آسائشیں موجود ہیں وہ سب حاصل کرنے کی طاقت رکھتے ہیں اللہ کا خاص کرم ہے ۔سر میری کہانی شروع ہوتی ہے میری یونیورسٹی سے جب میں نے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے لیئے یونیورسٹی میں داخلہ لیا وہاں میری ملاقات ذیشان سے ہوئی جو کہ اک بہت ہی سلجھا ہوا لڑکا تھا وہ میرا کلاس فیلو تھا اور بہت ہی قابل اور ذہین شخص تھا ۔کلاس میں کسی کو کوئی بھی مسئلہ درپیش ہوتا وہ ذیشان کے پاس ہی آتا ٹیچر سے زیادہ سب اس سے سمجھتے اور سیکھتے تھے اس کا سمجھانے کا انداز اور اخلاص ایسا تھا کہ کوئی بھی اس کی ذہانت کا آسانی سے قائل ہو جائے میری دوستی بھی اس سے ایسے ہی ہوئی میں لائبریری میں جایا کرتی تھی اور وہ بھی وہاں جب جاو موجود ہوتا تھا تو میری اس سے راوزانہ ملاقات ہونے لگی اور کوئی مسئلہ ہوتا تو میں پوچھ لیتی پھر روز روز ملنے سے ہماری دوستی ہو گئی اور ہم نے نمبر ایکسچینج کر لیئے ۔ نمبر لینے کے بعد ہماری کام کے علاوہ بھی چٹچیٹ ہونے لگی اوپر سے سیریس دکھائی دینے والا شخص اندر سے کافی معصوم اور مزاحیہ تھا اس کی باتیں بہت گہری اور معنی خیز ہوتی تھی مجھے پتا نہیں چلا میں کب اس کے باتوں کے حسار میں گرفتار ہو گئی اور اس سے محبت کر بیٹھی یونیورسٹی میں بھی ہر ٹائم اس کے ساتھ رہنا وہ نہ ہو تو اسے سوچتے رہنا اک کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو نوٹ کرنا اور پھر ہر بات کو رات کو کال پر ڈسکس کرتے کیسے رات گزر جاتی پتا نہیں چلتا تھا۔مجھے ایسا لگتا تھا کہ میری زندگی ذیشان کے بغیر ادھوری ہے اور آنے والی زندگی کا تصور تو میں ذیشان کہ بغیر کر ہی نہیں سکتی پر وہ اک مڈل کلاس فیملی سے تھا اور میں امیر ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی گھر والوں کو مننا نا کافی مشکل ٹاسک تھا لیکن اس سے زیادہ ضروری ذیشان کو مننانا تھا یونیورسٹی کہ آخری دن تھے میں نے ذیشان سے کہا کہ میں اس سے شادی کرنا چاہتی ہوں اس نے بھی وہی بات کی کہ تم میں اور مجھ میں بہت فرق ہے لحاظا یہ ایک ناممکن سی بات ہے پر میں نے جیسے تیسے اسے منا لیا اور گھر والے بھی میری ضد کے آگے جھک گئے اور یونیورسٹی ختم ہوتے ہی میں نے اور ذیشان نے دھوم دھام سے شادی کر لی ۔شادی کہ بعد سب بہت اچھا رہا سب میری زندگی کہ سب سے بہترین دن تھے ایک سال بعد اللہ نے اپنی نعمت سے بھی نوازا ہمارے ہاں بیٹی ہوئی جس کا نام ہم نے صدف رکھا پر کچھ ٹائم بعد ذیشان کو دبئی سے اک جاب کی آفر آئی تو ذیشان جاب کے سلسلے میں دبئی چلے گئے انہوں نے کہا کہ وہ مجھے اپنے پاس بلا لیں گے پر اس کے لیئے کچھ وقت لگے گا ذیشان کے جانے کہ بعد میں بہت اکیلے رہنے لگی تھی گھر میں دل بھی نہیں لگتا تھا اور ٹائم بھی پاس نہیں ہوتا تھا ہماری بات تو ہوتی تھی پر بہت کم پھر میں نے ٹائم پاس کرنے کے لیئے سوشل میڈیا کا سہارالیا جس سے کافی اچھا ٹائم پاس ہو جاتا تھا ۔ اور پھر اک دن مجھے انسٹا گرام پر فرحان نامی لڑکے کا میسج آیا ویسے تو میں کسی کو جواب نہیں دیتی تھی لیکن پتا نہیں کیوں اسے جواب دے دیا اور ہماری چیٹ ہونے لگی میں بھی بوریت کی وجہ سے بات کر لیتی وہ کوئی انجینئر تھا اور اور بات کرنے سے ایسا لگتا تھا جیسے وہ مجھے صدیوں سے جانتا ہو میری پسند نہ پسند ہو بہو اس سے ملتی جلتی تھی کھانے سے لے کر کپڑے گھومنے کی جگہ سب اک سے تھے میں حیران تھی کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے ہم نے دو ہفتے بات کی لیکن ایسا لگتا تھا ہم اک دوسرے کو صدیوں سے جانتے ہیں پھر انہوں نے ملنے کا اصرار کیا میں نے منع کیا لیکن بہت اصرار کرنے کے بعد میں مان گئی اور ہم نے یہ ڈیسائیڈ کیا کہ ہم ہماری فیورٹ فلم دیکھیں گے اور اس کے بعد ساتھ میں لنچ کریں گے پھر نمبر ایکسچینج ہوا تو میں نے کال پہ بات کرنے کا کہا کیوں کہ ابھی تک ہماری صرف میسجس پر ہی بات ہو رہی تھی تو اس پہ فرحان نے کہا یہ سرپرائز ہی رہنے دیں کل ملنا ہے تو مل کر ہی بات کر لیں گے جس پہ مجھے کوئی اعتراض نہیں تھا اور میں مان گئی۔ اگلے دن میں اس جگہ پہنچی جہاں ہم نے ملنا تھا تو جو سرپرائز مجھے ملا اس نے میری زندگی ہی بدل ڈالی جو فرحان بن کے مجھے میسج کر رہا تھا وہ کوئی اور نہیں میرا اپنا شوہر ذیشان تھا اور وہ میرے سامنے بیٹھا تھا میں شرم سے پانی پانی ہو رہی تھی کہ یہ میں نے کیا کر دیا اس نے کہا وہ بس اک مزاخ کرنا چاہ رہا تھا لیکن میں اتنی دلچسبی لے رہی تھی کہ اسے اپنا شوہر یاد ہی نہیں رہا اور نہ یہ یاد رہا کہ وہ کسی کی عزت ہے کسی کا مان ہے کسی کا ایمان ہے اور اس کی ایک بیٹی ہے وہ بتانا چاہ رہا تھا کہ بس تھوڑی تفریح کر کے سچ بتا دینا تھا لیکن میری دلچسبی نے اسے روکے رکھا اور یہاں تک کہ وہ کسی غیر مرد سے بغیر سوچے سمجھے ملنے آ گئی اس نے کہا ایسے کردار سے خالی لڑکی کو وہ اپنی بیوی نہیں رکھ سکتا اس نے مجھے اسی وقت طلاق دے دی میں نے اس کے پاوں پکڑے روئی گڑ گڑائی لیکن اس نے کہا شرک تو خدا معاف نہیں کرتا میں کیسے کر دوں۔ڈئیر انسان کو اس کی غلطیاں ہی لے ڈوبتی ہیں اور پھر پچھتاوا کھبی پیچھا نہیں چھوڑتا وہ لوگ جو بزرگوں کے سائے میں پلے بڑھے ہیں وہ یہ بات سمجھتے ہیں وہ یہ دور تھا کہ اگر کوئی شخص گلی سے اونچھا کھانستے ہوئے بھی گزرتا تھا تو گھر میں موجود بزرگ باہر نکل کہ اس کو اچھی خاصی سنا دیا کرتے تھے وہ دور تھا جب گھر کی دیواریں اونچی کرنے سے عزتیں بچ جایا کرتی تھی اور جب لوگ بور ہوتے تھے اک دوسرے سے بات کرتے تھے اور دل ہلکا کر لیتے تھے۔
لیکن آج کا ٹیکنالوجی کا دور ہے جہاں موبائیل نے دوریاں مٹائی ہیں وہاں فاصلے بڑھ گئے ہیں آپ نے سنا تو ہو گا کہ اپنی عزت اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے اب وہی دور ہے ہر کوئی اپنی عزت موبائیل کی صورت میں اپنے ہاتھ میں لیئے پھرتا ہے اور کوئی بھی آپ کی رسائی با آسانی حاصل کر لیتا ہے پہلے لوگ دیوار پلانگ کے گھر داخل ہوتے تھے اب موبائیل سے سیدھا آپ کے بستر میں داخل ہوتے ہیں تو اپنی عزت کو محفوظ بنائیں سوشل میڈیا پہ کسی بھی انجان شخص سے بات کرنے سے بچیں کیونکہ لوگ وہ نہیں ہوتے جو دکھائی دیتے ہیں کسی بھی انجان کے میسجس کا جواب نہیں دیں ورنہ وہ آپ کو اپنی باتوں کی روانی میں ایسا بہائیں گے کہ آپ کا پتا بھی نہیں چلے گا آپ ان کی ذات کے عادی ہو جائیں گے شروع میں سب اچھا ہی لگتا ہے اور بعد میں وہی اچھا دکھائی دینے والا شخص اپ کی زندگی کی وجہ بن جاتا ہے ۔اللہ سے دعا ہے وہ سب کی عزتیں محفوظ رکھے ۔آمین

About the author

abbassiwrites

View all posts

45 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published.