karachi to islamabad urdu stories

کراچی سے اسلام آباد تک |سفرنامہ|

یہ میرا اک نارمل گھر کا چکر تھا ۔میں اپنا بیگ اپنے کمر پہ لٹکائے ایئر پورٹ پہنچا بچپن میں ہی اک مثال سنی تھی۔ کہ سفر انجوائے کرنا ہو تو سفر میں سامان کم رکھو ۔جب سے یہ مثال سنی اس مثال نےمیرے دل میں گھر کر لیا تھا ۔اور جب بھی گھر جانا ہوتا اک چھوٹا بیگ جس میں میرا لیپ ٹاپ دو عدد ٹی شرٹ اک ٹروزر  اک جوڑا سنیکرز اور دو تین کتابیں اک ہیڈ فون اور موبائیل کا چارجر میرے شریک سفر ہوتے میں ذرا آزاد رہنے

کا عادی ہوں۔تو ہمیشہ سے اپنے پاوں کو بھی آزاد ہی رکھا ۔
تا کہ میں آزاد جی سکوں لیکن یہاں آزاد رکھنے سے میرا مطلب کہ میں کسی بھی سفر میں ہوں ۔میرے پاوں میں قینچی والی چپل جسے بعض لوگ باتھ روم والی چپل بھی کہتے ہیں وہی ہوتی ہے اب اسے عادت کہیں یا محبت لیکن اک بار جو چیز دل کو اک بار بھا گئی۔ پھر وہ ہمارے دل پہ چھا گئی خیر میرا فلیٹ ایئر پورٹ سے اتنا قریب ہے کہ زیادہ تر میں پیدل مارچ کر کہ ہی پہنچ جاتا۔ خیر ایئر پورٹ پہنچنے اور بورڈنگ کرواتے وقت اک غریب آدمی کی طرح “window seat ” کا مطالبہ کرتےہوئے کاوئنٹر پہ کھڑی موصوفہ کو اک جھوٹی سمائل پاس کرتے ہوئے سٹنگ ہال تک پہنچا فلائیٹ میں کافی وقت تھا ۔اور نماز مغرب کا وقت باقی تھا تو میں

۔گھومتے گمتاتے نماز کی جگہ پہنچا.
کیونکہ مجھے ٹریول کرنے کا جنون کی حد تک شوق ہے لیکن ٹرولنگ کے دوران مجھے بہت سے کام پسند ہیں ۔لیکن ان میں سے تین کام ایسے ہیں جن کو کرنے سے دل گارڈن گارڈن ہو جاتا ہے ۔جیسا کہ کوئی اچھی کتاب پڑھنا نئی جگہ پہ نماز ادا کرنا اور پبلک ٹوائلٹ میں لکھے محبت بھرے پیغمات پڑھنا اور ان سے لطف اٹھانا اس کا اک فائدہ یہ بھی ہے کہ آپ بوریت کا شکار نہیں ہوتے تو میں بتا رہا تھا کہ میں نماز کی جگہ پہنچا نماز ادا کی اور پھر پیٹ پوجا کے لیئے کچھ سنیکس اور چاکلیٹ خریدی کیونکہ ہم ٹھہرے دیسی اور مڈل کلاس

آدمی اور اوپر سے بیچلر بھی تو ہم گھر سے کیلکولیشن کر کے آتے ہیں۔ کہ جہاز میں میاں کھانا بھی ملے کا ۔۔اور چائے کافی کا بھی اہتمام ہے تو زیادہ کول نہ بنو اور خرچہ نہی
بس اتنے میں ہی باجی رخسانہ نے اعلان کر دیا کہ آپ کا جہاز روانگی کہ لیئے تیار ہے جنگلے والی بس کی طرف تشریف لے جائیے۔ بس سے جہاز تک منڈی میں لے جانے والے بکروں کی طرح پہنچے بالوں میں ہاتھ مار کے بال سنوارے اور چار پانچ سلفیاں لی آخر وٹس ایپ پہ سٹیٹس بھی تو لگانا تھا ۔اور پھر شرافت سے جا کہ اپنی نشست پہ جا بیٹھے سب سے پہلے سٹیٹس اپلوڈ کیا اس کہ بعد باہر کا دنیا کا جائزہ لیا کانوں میں ہیڈ فون ۔لگے تھے منہ باہر کو اٹھایا ہوا تھا

اتنی دیر میں کندھے پہ کسی کی تپکی محسوس ہوئی تو میں نے ٹوٹیاں کانوں سے نکالی سامنے نہایت ہی معصوم سے چہرے کی مالک اک خوبرو لڑکی کھڑی تھی ۔ جینز ٹاپ میں ملبوس لڑکی دیکھ کہ مجھے لگا کہ کہیں میں کراچی سے اسلام آباد کی فلائیٹ کی بجائے کراچی سے usa کی فلائیٹ تو نہیں بیٹھ گیا۔ میں ابھی ۔۔اسی سکتے میں تھا کہ محترمہ بولی
i am calling you from last two minutes and you are not bothering can you change the the seat plz ??
میں نے اس کی آنکھوں کی چمک دیکھی ہونٹوں پہ لگی لپ سٹک پہ دھیان گیا میں نے اک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا No .
اس نے کہا? Excuse me what


تو میں نے i dont want to chane my seat im comfrtable here.
بس یہ کہنا تھا کہ محترمہ نے اوپر لاکر کو کھینچ کہ مارا بند کیا
اور غصے سے بیٹھ گئی۔
اب یہ انسانی فطرت ہے کہ انسان کو نہ سن کہ بہت ہی غصہ آتا ہے ۔لیکن یہ نا کا سننا خوبصورت لوگوں میں کسی لاوے کی صورت میں ہے۔ بس پھر ہم بھی اپنے آپ میں گم ہو کہ مومنٹ کو انجوائے کرنے لگے۔ کیونکہ زندگی کہ بہت سارے ایڈونچر کیئے ہیں ۔لیکن یہ ایڈوینچر میری زندگی کا سب سے فیورٹ ہے جب جہاز زمین ۔چھوڑنے کے لیئے بھاگتا ہے اور پھر اک دم زمین سے اوپر اٹھتا ہے

یہ لمحہ ہر دفعہ ایسا ہی ہوتا ہے ۔کہ جیسے پہلی بار ہو رہا ہو اور اس کا لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا بس جب جہاز نے آسمان کی انچائیوں کو چھوا ہم نے بھی اپنے ہمسفر کو چھوا میرے مطلب کہ جو میرے شریک سفر تھا۔ آپ کو بتایا تو تھا کہ کچھ کتابیں میری ہمسفر ہوتی ہیں میں نے نکال کہ پڑھنا شروع کی کچھ پیجز پڑھے تھے کہ آواز آئی
you know what you are so rude …!!!
میرے ساتھ بیٹھی محترمہ مجھ سے کہہ رہی تھی لیکن میں نے دھیان نہیں دیا کیونکہ ہم Attitude کے معاملے میں اچھے اچھوں کو پچھاڑ دیتے ہیں پھر میڈم نے کہا
im talking to you you are so rude
میں نے جوابا کہا Thanks for letting me know this but i am already aware
of this
میڈم نے کہا see how you are talking

اب مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی میڈم لڑنا چاہتی ہیں یا بات کرنا ؟
تو میں کچھ زیادہ ہی straight forward hon to mene poch lia you wana create a scne or you wana tak ?
تو میڈم نے کہا im trying to talk
۔پھر میں بے کتاب بند کی اور رسمی گفتگو شروع ہوئی
تعارف ہوا وہ میڈم وکیل تھی۔ اور کسی کام کہ سلسلے میں کراچی آئی ہوئی تھی مجھ سے پوچھا کہ آپ کیا کرتے ہیں۔ میں نے وہی جواب دیا جو ہر کسی کو دیتا ہوں کہ میں اک مزدور ہوں کہنے لگی مزدور ہیں لگتے تو نہیں ہیں مزدور کب سے انگلش books پڑھنے لگے مزدور کب سے جہاز میں سفر کرنے لگے ؟؟ اور آپاچھے خاصے شریف لگتے ہیں ۔لیکن یہ کتاب تو ایسی لگ رہی کہ جیسی اس میں لڑکیاں پسا نے کے طریقے ۔ہوں
میرے ہاتھ میں اس وقت مشہور زمانہ کتاب
Fourty rules of love
تھی تو میں نے کہا کے کھبی بھی کسی کتاب کا اندازہ اس کے ٹائٹل سے نہ لگاو
تو اصرار ہوا کہ اس بک میں ایسا کچھ خاص لکھا ہے تو مجھے بھی بتائیں ہو سکتا ہے کہ میرے کچھ کام آ سکے۔تو پھر میں نے محبت کے دو اصول ان کے سامنے رکھے۔
“زندگی میں کچھ بھی ہو جائے زندگی کتنی بھی دشوار کیوں نہ لگے مایوس کھبی مت ہونا یقین رکھو کہ جب ہر دروازہ بند ہو جاتا ہے تو اللہ پاک اپ بندے کے لیئے کوئی نہ کوئی راہ ضرور کھولتا ہے۔ ہر حال میں شکر کرو جب سب کچھ اچھا چل رہا ہو اس وقت شکر کرنا بہت آسان ہوتا ہے لیکن ایک صوفی نہ صرف ان باتوں پہ شکر گزار ہوتا ہے کہ جو اس کو عطا کیا گیا ہو ۔بلکہ ان تمام باتوں کہ لیئے بھی شکر گزار ہوتا ہے جن سے انہیں محروم رکھا گیا ہو “

“دنیا کے زیادہ تر مسائل الفاظ اور زبان کے غلط کی وجہ سے جنم لیتے ہیں ۔ تو کھبی بھی الفاظ کی ظاہری سطح تک خود کو محدود نہ رکھیں۔جب آپ محبت و عشق کہ میدان میں قدم رکھتے ہیں ۔تو لفظ بیان اور زبان اپنی اہمیت کھو بیٹھتے ہیں جو کسی لفظ سے بیان نہ ہو سکے اس کو صرف خاموشی سے ہی سمجھا جا سکتا ہے “
بس اس کے بعد ساری گفتگو کتابوں کے حوالے سے ہوئی میری پسندیدہ کتاب کا پوچھا تو بات پیر کامل سے ہوتی ہوئی جنت کہ پتوں سے گزرتی ایمان امید اور محبت تک پہنچی ۔اس دوران کھانا بھی آیا کافی کہ سپ پہ بھی کتابوں کی باتیں چلی ایک گھنٹہ 55 منٹ کی فلائیٹ کا پتا ہی نہیں چلا کب اختتام ہوئی وہ سفر جو اک نوک جوک سے شروع ہوا ۔اک اچھے تعلق پہ ختم ہوا اور جاتے جاتے محترمہ نے خواہش کی کہ ان کو یہ کتاب چاہیے

جن میں سے میں نے دو لائینیں انہیں پڑھ کر سنائی تھی تو میں نے وہ کتاب گفٹ کر دی اور جاتے جاتے محترمہ نے یہ انکشاف بھی کیا کہ انہیں English سے نفرت ہے لیکن میرے ہاتھ میں English bookدیکھ کہ انگلش میں بات کی اس کے لیئے سوری میں نے دل ہی دل میں کہا شکر ہے تم نے میری قینچی والی چپل نہیں نوٹ کی ورنہ پنچابی میں بات کرنا پڑتی ۔
یوں یہ سفر بھی یادگاروں میں سے ایک یاد گار ٹھہرا.

۔

About the author

abbassiwrites

View all posts

61 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published.