مردانا کمزوری ایک کمزور مرد کی کہانی

سر اپ کا انسٹا گرام فالو کیا ہوا ہے اور آپ کی لکھی ساری سٹوریز پڑھتی ہوں دنیا میں لوگوں کے ساتھ کیا کیا ہو رہا ہے یہ دیکھ کہ اپنا دکھ بہت چھوٹا لگتا ہے لیکن آپ کے مشورے بہت مفید ہوتے ہیں آپ کی رائے بہت ہی اہم ہوتی ہے میں اپنی کہانی سناتی ہوں جو مجھ پہ گزری تا کہ وہ غلطی کوئی اور نہ دھرائے ۔
سر میں اک پڑھی لکھی اور پڑھے لکھے گرانے کی لڑکی ہوں ماشااللہ اللہ کا دیا سب کچھ ہی ہے سٹڈی مکمل ہونے کے بعد میرے والدین کو میری شادی کی فکر تھی جو کہ ہر ماں باپ کو ہی ہوتی ہے تا کہ اپنا فریضہ انجام دیں اور ان کی بیٹیوں اور بیٹوں کا گھر بس جائے تو بہت سے رشتے آئے لیکن میرے گھر والوں کو کوئی مناسب نہیں لگا۔
پھر میری امی کی دوست نے رشتے کرانے والی آنٹی کا مشورہ دیا اور کہا کہ کافی اچھی عورت ہیں امی نے ان سے بات کی اور پھر وہ رشتے لانے لگی بہت سے رشتے آئے لیکن کوئی پسند نہیں آیا امی کو پڑھا لکھا داماد چاہیے تھا تو پھر آنٹی اک پڑھے لکھے لڑکے کا رشتہ لائی لڑکے نے ایم فل کیا ہوا تھا شکل و صورت کچھ خاص نہیں تھی پر پڑھا لکھا تھا اور مڈل کلا س فیملی کا تھا لیکن پڑھا لکھا تھا تو گھر والوں کو پسند آ گیا تو ہماری منگنی ہو گئی اور ساتھ ہی نکاح بھی کرا دیا گیا اور میری ساس نے چھے ماہ کا ٹائم لیا اور کہا کہ چھے مہینے میں ہم اپنی تیاری کر لیں گے اور پھر شادی کریں گے نکاح کے بعد میرے اور میرے شوہر کے نمبر ایکسچینج ہو گئے گئے اور ہماری بات چیت شروع ہو گئی کھبی کال پر کھبی میسج پھر ہماری اکثر بات ہونے لگی۔
بات کرنے پہ مجھے بہت ہی عجیب لگا اس کا بات کرنے کا انداز اور طریقہ بہت ہی نا مناسب تھا ہفتے بعد ہی اس نے بد تمیزی شروع کر دی ذرا ذرا سی بات پہ میرے ماں باپ کو بیچ میں لے آتا تھا پر میں نے اگنور کیا اور سوچا کہ شاید ٹائم کہ ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا پر ہم نے بات کر نا بند کر دیا جب شادی کا ٹائم قریب آیا تو ذیشان کا پھر سے فون آنا سٹارٹ ہو گیا پھر یہ کالز مجھ سے بات کرنے کے لیئے نہیں ہوتی تھی بلکہ جہیز کی ڈمانڈ کے لیئے تھی پہلے اس نے کہا کہ میں فرنیچر اپنی مرضی کا لونگا پھر کہنے لگا باقی سامان کے پیسے دے دیں میرے گھر میں آنا ہے سامان میں خود لونگا پھر گاڑی مانگنے لگا میں نے ساری بات گھر بتائی تو والدین نے صاف انکار کر دیا اور یہ ڈمانڈز ماننے سے منع کر دیا اور کہا کہ ہم اپنی بیٹی کو اپنی مرضی کا سامان دیں گے ۔ ذیشان نے یہ ساری باتیں دل میں رکھ لیں۔
خیر جیسے تیسے ہماری شادی ہو گئی اور شادی کی پہلی رات سے ہی میری بری قسمت کھل گئی شادی کی پہلی رات ہی اس نے میرے ساتھ سونے کہ لیئے اپنی بہن کو بھیج دیا اور کہا کہ گھر میں مہمان ہیں اس لیئے وہ باہر ہی سوئے گا میری پوری رات انتظار کرتی رہی وہ میرا منہ تک دیکھنے نہیں آیا
اگلے دن مجھے صبح صبح ہی اٹھا دیا اور کہا کہ میرے لیئے ناشتہ بناو میں نے منع نہیں کیا اور اس کے لیئے ناشتہ بنانے لگی میں حیران تھی کہ اس گھر میں میرا پہلا دن تھا ابھی میری مہندی کا رنگ بھی نہیں بدلا اور مجھے کچن میں جھونک دیا خیر دن گزر گیا اور رات کو میں انتظار کرتی رہی وہ کمرے میں نہیں آیا میں تھک ہار کہ سو گئی صبح آنکھ کھلی تو کمرے میں سوتے ہو ئے ملا
اگلے دن میری ڈیوٹی لگی مجھے سارے گھر کی صفائی کرنی تھی کھانا بنانا تھا میں سارا دن کام کرتی رہی مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ میں بیاہ کر نہیں لائے خرید کر لائے ہیں اوپر سے ذیشان بھی بلکل اجنبی تھا وہ کب کمرے میں آتا تھا مجھے کچھ پتا نہیں ہوتا تھا ہماری شادی کو ایک مہینہ ہونے والا تھا لیکن ہمارے بیچ کچھ نہیں ہوا تھا ذیشان کھبی میرے پاس ہی نہیں آتا تھا میرے سونے کہ بعد کمرے میں آتا تھا اور بس مجھے صبح کمرے میں ملتا تھا اک رات میں سو رہی تھی کہ اچانک کسی کہ چیخنے کی آوازیں آ نے لگی آنکھ کھلی تو وہ ذیشان تھا اس کے ہاتھ پاوں الٹے ہو چکے تھے منہ سے جھاگ نکل رہا تھا میں بہت ڈر گئی اتنے میں میری ساس آگئی انہوں نے ہاتھ پاوں ملے کوئی دوائی دی ذیشان بلکل ٹھیک ہو گیا اور تھوڑی دیر بعد وہ قہقے لگا کہ ہس رہے تھے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہے ظاہر ہے پہلے بھی ہوتا ہو گا اس لیئے ان کے لیئے کوئی نئی بات نہیں تھی ۔
ذیشان کو پاگل پن کر دورے پڑھتے تھے شاید اس لیئے وہ مجھ سے دور رہتا تھا پھر آہستہ آہستہ حالات اور خراب ہونے لگے ذیشان مجھے مجبور کرنے لگا کہ میں اپنے گھر سے پیسے مانگوں تا کہ وہ کوئی فلیٹ خریدے کوئی کاروبار کرے زیشان کی جاب نہیں تھی جب میں نے منع کیا تو سب گھر والوں نے میرا بائیکاٹ کر دیا کوئی مجھ سے بات نہیں کرتا تھا جب میں پھر بھی نہیں مانی تو انہوں نے کہا کہ میں پیسے کما کہ دوں مجھ پہ زبردستی کرنے لگے میں نے تنگ آ کر کچھ سکولوں میں انٹرویو دیے میری جاب ہو گئی لیکن میں نے جوائن نہیں کی
اس کے بعد ان کا رویہ مجھ سے اور بھی بہت برا ہو گیا بات بات پہ طعانے دیتے میرے ماں باپ کو گالیاں دیتے اور جب اس سے پیٹ نہیں بھرا مجھ پہ ہاتھ اٹھانا شروع کر دیا روز روز کی مار پیٹ ہونا شروع ہو گئی میں پتہ نہیں کیوں یہ سب برداشت کر رہی تھی پھر میں اپنے گھر کی خاطر سب سہہ رہی تھی پھر بات حد سے بڑھ گئی جب انہوں نے میرے کردار پہ انگلی اٹھائی میری ساس نے میرے گھر کال کی اور کہا کہ یہ بد کردار ہے دوسرے مردوں کے ساتھ اس کے چکر ہیں اپنے شوہر کو قریب بھی نہیں آنے دیتی۔
اور کہا کہ اس بد کردار عورت کے لیئے ہمارے گھر میں جگہ نہیں ہے اسے آ کر لے جائیں پھر میرے والد آئے اور مجھے اپنے ساتھ لے گئے میں نے گھر جا کر اپنی امی کو سارا بات صاف صاف بتا دی کہ کس طرح مجھے پیسے مانگنے پہ مجبور کرتے تھے مجھے کیسے کام کرواتے تھے کیسے زبردستی مجھ سے جاب کروانے کی کوشش کی میں نے مار پیٹ کے نشان دکھائے اور یہ بھی بتایا کہ کیسے مجھ پہ جھوٹا الزام لگایا ہے کیسے میرے کردار پہ کیچڑ اچالا ہے سچ تو یہ ہے کہ ایک مہینے سے زیادہ ہو گیا میرے اور میرے شوہر کے درمیان کوئی تعلقات ہی قائم نہیں ہوئے انہوں نے کھبی حق ہی ادا نہیں کیا شوہر ہونے کا کھبی قریب ہی نہیں آئے ہمارے درمیان کچھ ہوا ہی نہیں ہے آج تک امی نے یہ ساری باتیں ابو کو بتائیں۔
ایک ہفتے بعد جب میرے سسرال والے مجھے منانے آئے تو میرے ابو نے مجھے بیجھنے سے انکار کر دیا اور ساری بات کھل کر کی تو میری ساس میرے ابو کے پاوں پڑھ گئی اور کہا کہ اس کو شادی سے پہلے سے مردانہ کمزوری ہے اور پاگل پن کے دورے بھی پڑتے ہیں اور یہ ساری باتیں رشتہ کروانے والی کو پہلے سے بتائی تھی اگر اس نے اپ سے ذکر نہیں کیا تو اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں پر ہم علاج کرا لیں گے آپ صائمہ کو بھیج دیں بس ایک موقع دے دیں ہم علاج کرا لیں گے دوبارہ کھبی شکایت کا موقع نہیں دیں گے ۔میرے ابو نے صاف منع کر دیا اور طلاق کا مطالبہ کیا اس طرح میری اس ازیت بری شادی شدہ زندگی کا خاتمہ ہو گیا۔
ڈیئر اللہ آپ کو سکون بھری زندگی دے اسی لیئے کہتے ہیں کہ شادی کرنے سے پہلے لوگوں کے بارے میں معلومات ضرور لینی چاہیے ان کے بارے میں پوچھ تاچھ کرنی چاہیے ان کے حسب نسب کا پتا لگانا بے حد ضروری ہے خاص طور پہ لڑکی والوں کے لیئے کیونکہ انہوں نے اپنی بیٹی دینی ہوتی ہے اور اس بیٹی نے نئے گھر میں جا کے ایڈجسٹ ہونا ہوتا ہے
اور میں رشتہ کرانے والی خواتین کے حق میں اس لیئے نہیں ہوں کیونکہ وہ اپنا مطلب اپنا کمیشن دیکھتی ہیں اگلے کا گھر برباد ہو یا آباد ہو ان کا اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا بس وہ شادی کروا کے اپنا کمیشن لے کے رفو چکر ہو جاتی ہیں ان کی مثال اک فروٹ کی ریڑی لگانے والوں سی ہے انہوں نے اچھا برا سب مال بیچنا ہے۔
اور رہی بات مردانہ کمزوری کی تو اصل مردانہ کمزوری کا شکار وہ مرد ہوتا ہے جو اپنی بیوں کے ماں باپ کو گالیاں دے اپنی بیوی پہ ہاتھ اٹھائے اسے برا بھلا کہے ایسی مردانہ کمزوری کے شکار مردوں سے اللہ سب کو پناہ دے اور دوسری مردانہ کمزوری اک وہمی سی بیماری ہے جس کا علاج ممکن ہے ۔ اللہ سب کی زندگیاں آسان کرے آمین۔

About the author

abbassiwrites

View all posts

31 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published.