غلطی) محبت میں کی گئی غلطی کی داستان)

سر میرا نام شائستہ ہے اور میری کہانی بہت عجیب سی ہے میں زندگی میں ایسے موڑ پہ کھڑی ہوں جہاں مجھے نہ کچھ آگے دکھائی دیتا ہے اور پیچھے دیکھوں تو بس پچھتاوا ہے اور اس کہ سوا کچھ نہیں سر میرا تعلق انڈیا کہ شہر گجرات سے ہے اور میں اک مڈل کلاس فیملی کی لڑکی ہوں جب میں کالج میں تھی تو میری دوستی اک کلاس فیلو سے ہوئی اور کچھ عرصہ بعد وہ دوستی محبت میں بدل گئی ادھر میرے گھر کے حالات بھی اکثر خراب رہتے تھے ابو کا بزنس بھی بہت خراب چل رہا تھا اور ماں بھی اکثر بیمار رہتی تھی بس میں بہت پریشان رہتی تھی اس پریشانی میں جو میرے سکون کا باعث تھا وہ صرف عاطف ہی تھی جس کہ ساتھ ہونے سے خود کو زندہ محسوس کرتی تھی خوش رہتی تھی مجھے کوئی اور سوچ نہیں آتی تھی
ہمارا رلیشن بہت اچھا چل رہا تھا ہم روز کالج کے بعد ملتے تھے باتیں کرتے ڈیٹ پہ جاتے سب کچھ بہت اچھا لگتا تھا پھر میری زندگی میں بہت بڑا حادثہ ہوا میری امی کا انتقال ہو گیا وہ مجھے چھوڑ کے چلی گئی امی کے جانے کہ بعد پورے گھر کا ماحول بدل گیا پورے گھر کی ذمہ داری مجھ پہ آ گئ میرا کالج بھی چھوٹ گیا لیکن میرے اور عاطف کا رشتہ قائم تھا پورا گھر اب مجھے سنبھالنا پڑھتا تھا اور گھر کی ہر چیز کی ذمہ داری بھی مجھ پہ آ گئی تھی اب مجھے عاطف سے ملنے کا ٹائم بھی کم ملتا تھا اس پہ اکثر عاطف بھی برہم ہو جاتا تھا لیکن اس کی ایک بات یہ تھی کہ وہ میری بات بھی مان لیتا تھا اور جو کہوں وہ سن بھی لیتا تھا عاطف کی پہلے بھی اک گرل فرینڈ تھی جس سے وہ بہت پیار کرتا تھا لیکن اس کی شادی ہو گئی۔
وہ اکثر اس کی باتیں بھی کرتا تھا جس پہ مجھے غصہ بھی آتا تھا لیکن پھر میرے ناراض ہونے پہ وہ مجھے منا بھی لیتا تھا عاطف کو سنگنگ کا بہت شوق تھا وہ بہت محنت بھی کرتا تھا لیکن مجھے یہ سب پسند نہیں تھا لیکن اس معاملے میں میری بلکل نہیں سنتا تھا ادھر میرے گھر کی ذمہ داری کی وجہ سے میں مصروف رہنے لگی تھی ہماری بات بہت کم ہو گئی تھی اگر عاطف ملنے کا کہتا تو میرے لیئے بہت مشکل ہو جاتا تھا اس وجہ سے ہماری لڑائی بھی ہو جاتی تھی اور کھبی ہم ہفتوں تک بات نہیں کرتے تھے اسی بیچ عاطف کا اک گانا فیمس ہو گیا اس کی وجہ سے اس کو کافی نام مل گیا اور کام بھی ملنے لگا اب اس نے مجھ سے بات کرنا بند کر دیا ہفتے دو ہفتے بعد سلام دعا کر لیتا اور کہتا کہ کام کی وجہ سے مصروف ہوتا ہوں ۔ ادھر میرے گھر پہ میرے لیئے بہت رشتے بھی آ رہے تھے لیکن میں عاطف کی وجہ سے سب کو ٹکرا دیتی اور جب میں عاطف کو بتاتی تو وہ مجھے کہتا کہ میں شادی کر لوں پہلے مجھے لگتا تھا کہ عاطف مزاخ میں یہ سب کہتا ہے
پھر ایک دن عاطف نے سیریس ہو کہ کہا کہ وہ مجھ سے شادی نہیں کر سکتا وہ اپنی ایکس سے شادی کرے گا جب میں نے کہا کہ وہ شادی شدہ ہے تو اس نے کہا کہ وہ اس کا مسئلہ ہے میرا نہیں ادھر میرے گھر والے میری شادی کی جلدی تھی میں کس نہ کسی بہانے سے سارے رشتے ریجیکٹ کرتی رہی لیکن جس کے لیئے سب کیا آخر میں اس نے بھی مجھے ریجیکٹ کر دیا اور اپنی لائف میں آگے بڑھ گیا میرے والد کو میری شادی کی جلدی اس لیئے بھی تھی کیونکہ وہ خود شادی کرنا چاہتے تھی اور انکی شادی میری وجہ سے رکی ہوئی تھی انکی شادی میں میں رکاوٹ تھی اور وہ اس روکاوٹ کو کسی بھی طرح ہٹانا چاہتے تھے میری شادی کسی بھی ایرے غیرے سے کر کہ اپنا راستہ سیدھا کرنا چاہتے تھے مجھے ایسا لگتا تھا جیسے میں انکی زندگی پہ بوجھ تھی اور بس وہ اس بوجھ کو اتار کہ پیکنھا چاہتے تھے
اس کیچھا تانی میں آٹھ نو سال گزر گئے عاطف تو جیسے لاپتہ ہو گیا زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا کسی کو کچھ پتا نہیں کہاں گیا اور ہمارے ہمارے ابھی بھی اپنی شادی کہ چکر میں ہیں کھبی ایسے بھی کہہ دیتے ہیں کہ نہ تو مرتی ہے اور نہ بھاگتی ہے کسی کہ ساتھ ہمارے سروں پہ بوجھ بن کہ بیٹھ گئی ہے بھائی بھی یہ کہتے کہ عمر نکل گئی ہے شادی نہیں کرتی انہیں میری قربانیاں نظر نہیں آتی کہ کیسے امی کہ جانے کہ بعد میں نے گھر کو سنبھالا کیسے ان سب کو سنبھالا اور میری عمر وہی تھی شادی کی جو میں نے انکی خدمت میں گزار دی اب انکو گلہ ہے کہ میں نے شادی نہیں کی اب اچانک سے عاطف بھی آ گیا ہے اور کہتا ہے میں نے شادی کر لی ہے لیکن مجھ سے دوسری شادی کرنا چاہتا ہے اسے لگتا ہے میں ابھی بھی اس کہ انتظار میں بیٹھی ہوں اتنے سالوں بعد وہ آ گیا ہے لیکن دوسری شادی کرنے پہلی شادی اس نے اپنی ایکس سے کی ہے اب مجھے سمجھ نہیں آ رہی میں کیا کروں گھر والے بھی مجھ سے بیزار ہیں وہ جان چھڑانا چاہتے ہیں میں خود بھی اپنی زندگی سے تنگ ہوں میں کیا کروں؟؟
ڈیئر آ پ نے اپنے زندگی کہ بہترین دن ایسے شخص پہ ضائع کیے ہیں جسے نہ تو آپ سے محبت تھی اور نہ ہی آپ کی قدر تھی آپ کی غلطی بس یہی ہے کہ آپ نے نا قدرے شخص کہ سہارے اپنے آپ کو ضائع کیااگر اسے آپ سے محبت ہوتی تو آپ کو ایسے نہیں چھوڑتا جیسے وہ آپ کو چھوڑ کہ گیا اور رہی بات آپ کے ابا کی تو شاید کہیں نہ کہیں وہ بھی اپنی جگہ ٹھیک ہو گے اتنے رشتے ٹکرانے کے بعد اور وہ بھی بنا کسی مجبوری کہ کوئی درست فیصلہ نہیں ہے ہماری سوسائٹی بہت ظالم ہے لیکن اگر صرف اپنی شادی کہ لیئے اپ کو قربان کرنا چاہتے ہیں تو یہ بلکل غلط ہے اور اگر عاطف اتنے سالوں کے بعد آیا ہے تو نہ تو وہ محبت سے مجبور ہو کہ آیا نہ ہی آپ پہ ترس کھا کہ ہو سکتا ہے جو وہ اپنی ایکس سے ایکسپکٹ کر رہا ہو وہ اس پہ پورا نہ اتری ہو اور وہ آپ کو دوبارہ سے بے وقوف بنانا چاہ رہا ہو ۔
اب آپ کریں یہ کہ اگر کوئی مناسب رشتہ آئے تو ہاں کہہ کر اپنا گھر بسائیں جہاں اللہ نے آپ سے اتنے امتحان لیئے ہیں وہیں اپ کو انشااللہ ضرور خوشیوں بھری زندگی بھی دے گا اور اتنی خوشیاں دے گا کہ آپ ان غمزدہ دنوں کو بھول جائیں گی۔ اللہ آپ کے معاملات میں آسانی کرے۔ آمین

About the author

abbassiwrites

View all posts

13 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published.