بے وقوفی )اک بے وقوف لڑکی کی آپ بیتی)

سر آپ کے پیج میں موجود ساری سٹوریز میں نے پڑھی ہیں اور بہت کچھ سیکھا ہے ان سے تو مجھے حوصلہ ملا کہ اپنی آپ بیتی آپ کو سناو تا کہ لوگ کچھ سیکھ سکیں
بات تب کی ہے جب میں نے اپنی گریجوایشن مکمل کی اور مجھے جاب کی تلاش تھی جاب کے لیئے میں نے بہت سے جگہ انٹر ویوز دیے اور اللہ اللہ کر کے اک سکول میں میری جاب ہو گئی
میری جاب شروع میں تو مجھے کافی مشکل لگی شاید یہ میری زندگی کی پہلی جاب تھی اس لیئے مجھے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑھ رہا تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ میں ایڈجسٹ ہو گئی میری روٹین بھی بن گئی اور لوگوں کے رویوں کی بھی سمجھ آ گئی میںری زیادہ کسی سے دوستی بھی نہیں تھی بس سب سٹاف والوں سب سے اچھی سلام دعا تھی یہی وجہ تھی میں اپنے لیکچر ختم کرنے کے بعد سٹاف روم میں اکیلی بیٹھی رہتی تھی
زندگی کا اک معمول بن گیا تھا صبح سکول پھر واپسی پر گھر کے کام اور پھر تھک ہار کے سو جانا اور اگلے دن پھر وہی سب میری زندگی کہ یہ 6 مہینے کیسے پلک جھپکتے گزرے مجھے خود بھی پتہ نہیں چلا اور پھر میری دوستی ہمارے بہت سینیر ٹیچر سے ہوئی ان کا نام فرحان تھا وہ عمر میں مجھ سے دس بارہ سال بڑے تھے لیکن وہ انتہائی سلجھی ہوئی شخصیت کے مالک تھے انہوں نے اپنے اپ کو بہت مینٹین کر کے رکھا ہوا تھا
اب جو وقت میرا اکیلے گزرتا تھا وہ فرحان کے ساتھ گزرنے لگا ہم اکھٹے سٹاف روم میں بیٹھے رہتے سکول سے چھٹی ہونے کے بعد بھی ہم میسجس اور کال پہ اک دوسرے سے بات کرتے رہتے مجھے بھی ان سے بات کر کے بہت اچھا لگتا تھا وہ ہسا ہسا کہ پاگل کر دیتے تھے پھر اک دن انہوں نے اپنی ماضی کی زندگی کے بارے میں بتایا کہ ان کی زندگی میں عروج نام کی اک لڑکی تھی جن سے ان کا رلیشن آٹھ سال تک چلا پھر عروج نے کسی اور سے شادی کر لی لیکن فرحان نے اس کے بعد کسی لڑکی کو زندگی میں جگہ نہیں دی
پھر انہوں نے کہا کہ عروج کہ بعد جو لڑکی ان کی زندگی میں آئی وہ میں ہوں اور وہ جانے انجانے میں مجھے پیار کرنے لگے ہیں اپنا دل مجھے دے بیٹھے ہیں اور اپنے دل کہ ہاتھوں مجبور ہیں مجھے یہ سب بتانے میں مجھے سمجھ نہیں آئی کہ میں کیا جواب دوں انہیں لیکن میں بھی ان کی ذات سے متاثر تھی مجھے بھی ان کے آس پاس رہنا اچھا لگتا تھا اگر وہ سامنے نہ ہوں میری نظریں پھر انہیں ڈھونڈا کرتی تھی وہ مجھ سے عمر میں بڑے تھے لیکن مجھے یہ فرق مجھے انہوں نے کھبی محسوس نہیں ہونے دیا تھا
پھر میں نے بھی ہاں کہہ دیا اور کہا کہ میں بھی ان سے پیار کرنے لگی ہوں میرا دل بھی ان کے لیئے دھڑکتا ہے ہم اک ساتھ زیادہ وقت گزارنے لگے تھے آہستہ آہستہ پورے سکول کو ہمارے بارے میں پتہ چل گیا کہ ہم رلیشن میں ہیں اب کہ ہوتے ہوئے پورے سکول میں کسی کی جرت نہیں ہوتی تھی کہ مجھ سے اونچی آواز میں بات بھی کر سکے اب ہم سکول کے باہر بھی ملنے لگے تھے ڈیٹ پہ جانا اکھٹے رہنا اک دوسرے کی پسند کی ڈرسنگ کرنا زندگی کا یہ نیا پہلو مجھے بہت لبھا رہا تھا میں جیسے آسمانوں میں اڑتی پرتی تھی
میں اپنی دوستوں میں رشتہ داروں کو ہمارے بارےمیں بتاتی وہ مجھے ڈانٹا کرتے کہ میں اپنے ساتھ غلط کر رہی ہوں پر مجھے کسی کی باتوں سے فرق نہیں پڑھتا تھا میں فرحان کے ساتھ بہت خوش تھی پر مجھے پتا نہیں تھا کہ یہ خوشی ایسے اک دم اچانک ختم ہو جائے گی اک دن جب میں سکول گئی تو مجھے پتا چلا کے فرحان کا دوسرے کیمپس میں ٹرانسفر ہو گیا ہے اور وہ گیا بھی مجھے بنا ملے بنا کچھ کہے
نئے کیمپس جانے کہ بعد فرحان نے مجھ سے بات کرنا کم کر دیا پہلے مجھے لگا کہ شاید نئی جگہ ہے کام زیادہ ہو گا ایڈجسٹ ہونے میں ٹائم لگ رہا اس سے وقت نہیں مل رہا ہو گا
لیکن آہستہ آہستہ فرحان نے مجھے سے بلکل بات بند کر دی
میں پوری پوری رات روتی رہتی بات کرنے کو ترستی رہتی لیکن فرحان میرے کال میسج کا کوئی جواب نہیں دیتا میں پاگل ہو چکی تھی مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کہ اچانک ہوا کیا ہے اور فرحان کچھ بتاتا بھی نہیں تھا پھر اک دن میں اس کے کیمپس پہنچ گئی اور دیکھا وہ کسی کہ ساتھ قہقے لگا کہ ہس رہا تھا مجھے دیکھ کہ چونک گیا میں نے کہا مجھے صرف وجہ بتا دو ایسا کیوں کر رہے ہو تو فرحان نے سامنے بیٹھی لڑکی کی طرف اشارہ کیا اور کہا یہ عروج ہے وہی عروج جو اس کی آٹھ سالہ محبت تھی وہ اس کی زندگی میں واپس آ گئی تھی اس نے اپنے پرانے شوہر سے طلاق لے لی تھی اور وہ اور فرحان شادی کرنے والے تھے فرحان نے کہا دیکھو میں نے تمہیں یہ کھبی نہیں کہا کہ تم سے شادی کروں گا اور یہ بات سچی بھی تھی فرحان نے شادی کا کھبی نہیں کہا تھا اور کہنے لگا میری عروج واپس آ گئی ہے تو تم بھی جہاں سے آئی ہو واپس چلی جاو ۔میں روتے ہوئے وہاں سے نکل آئی لیکن آج تک سمجھ نہیں پائی کہ میرے ساتھ ہوا کیا ہے۔ آپ بتائیں ایسا کیوں ہوا ہے؟؟
ڈیئر اپ نے کھبی ٹرین میں سفر کیا ہے ؟ ٹرین جب اک سٹیشن سے چلتی ہے تو اس کہ آخری سٹیشن تک پہنچتے پہنچتے اس میں بہت سے مسافر سوار ہوتے ہیں اور اتر جاتے ہیں لیکن ہر کس کو اپنی منزل کا پتہ ہوتا ہے کہ وہ کہاں اترے گا اگر وہ اپنے منزل سے آگے پیچھے یا پہلے اتر جائے تو وہ بٹھک جائے گا ؟ آ پ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے اپ ٹرین میں سوار تو ہوئی لیکن اپ کو اپنی منزل کا نہیں پتا تھا جب آپ نے خود ہی کہا کہ فرحان نے کھبی شادی کا نہیں کہا ؟ اگر ایسا ہے تو پھر تو یہ اک ٹائم پاس تھا اس کو اپنی منزل نظر آئی وہ اتر گیا لیکن اپ بے خیالی میں بیٹھی رہی ۔ جس رشتے کا مقصد شادی نہیں تو وہ رشتہ محض اک دل لگی ہے وقت کا ضیاع اور ٹائم پاس ہے وہ بھی زندگی سے بور تھا اس نے اپ سے دل لگی کی اور اپ کی بے وقوفی تھی اور اپ اسی جانسے میں آ گئی اور وہ اپ کو استمال کرتا رہا اور وقت آنے پر آپ کو اور آپ کے پیار کو روند کر آگے بڑھ گیا۔ ہمارے دفاتر میں لوگ اکثر عشق معشوقی کرتے ہیں تا کہ کام بھی ہوتا رہے اور دل بھی لگا رہے
اک کہاوت ہے جہاں بیوپار کرو وہاں کھبی نہ پیار کرو۔
دعا ہے اللہ اپ کو صبر و تحمل دے آمین ۔

About the author

abbassiwrites

View all posts

39 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published.